بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن کمیشن پر کام کرنا

سوال

آن  لائن کمیشن پہ کام کرنا کیساہے  اور اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

آپ  کا سوال واضح نہیں ہے کہ آن لائن کمیشن کا کیا مطلب ہے؟

اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں سے آن لائن ویب سائٹ بنانے کا یا کوئی پوسٹ بنانے کا یا کوئی ایڈوٹائزمنٹ بنانے کا ٹھیکہ لیتے ہیں اور اس پر ان سے اجرت لیتے ہیں تو یہ کمیشن نہیں ہے، بلکہ اجرت ہے  اور  یہ لینا جائز ہے بشرطیکہ  جس کام کی اجرت لے رہے ہیں وہ ناجائز کام نہ ہو، مثلًا: اس میں کوئی تصویر   یا میوزک وغیرہ نہ ہو ۔

اگر آپ کی مراد  کچھ اور  ہو  تو اس صورت کو  واضح کر کے سوال کریں۔

’’قَالَ فِي التتارخانية: وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ ... وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِالسِّمْسَارِ؟ فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا؛ لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ، وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ...‘‘ الخ

( مَطْلَبٌ فِي أُجْرَةِ الدَّلَّالِ ، ٦/ ٦٣، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

’’وَأَمَّا أُجْرَةُ السِّمْسَارِ وَالدَّلَّالِ فَقَالَ الشَّارِحُ الزَّيْلَعِيُّ: إنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً فِي الْعَقْدِ تُضَمُّ‘‘. (ه/ ١٣٦)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201083
تاریخ03-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں