بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال کی زکوۃ ادا کرتے ہوئے کون سی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

سوال

دکان دار اپنے مال کی  زکوۃ ادا کرتے وقت کون سی قیمت کا اعتبار کرے گا ؟

جواب

تجارتی مال سے زکوۃ  نکالتے وقت قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوتا ہے، قیمتِ خرید کا نہیں؛  لہذا سال مکمل ہونے پر جب تاجر زکوۃ  نکالے گا تو قیمتِ فروخت سے نکالے گا، قیمت خرید سے نہیں ۔مثلًا کسی نے تجارت کی نیت سے ایک چیز دس ہزار میں خریدی ہے اور اس کی قیمتِ فروخت بارہ ہزار ہے تو بارہ ہزار سے ڈھائی فیصد زکوۃ نکالی جائے گی، اور اگر قیمت کم ہو کر قیمت فروخت آٹھ ہزار ہوگئی تو آٹھ ہزار سے زکوۃ نکالی جائے گی۔ (زکوۃ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا ص: ۱۲۸)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 285):

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح."

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201017
تاریخ02-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں