بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا انتقال شوہر کی زندگی میں ہونے سے میراث میں حق دار ہونے کا حکم

سوال

میرے نانا کے والد نے دو شادیاں کی تھی،  پہلی شادی سے ایک بیٹا تھا جو فوت ہوگیا ہے،  دوسری شادی سے دو بیٹے اور چار بیٹاں ہیں، نانا کے والد کی کل وراثت 52  ایکڑ  زمین ہے، پہلی بیوی جو نانا کے والد کی وفات سے پہلے فوت ہوگئی تھی  اور دوسری بیوی نانا کے والد کے بعد فوت ہوئی ہے۔اب زمین بیچ رہے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلی بیوی کا حصہ نہیں دے رہے ہیں، برائے کرم اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بصورتِ مسئولہ مرحوم کی جس بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوا تھا شرعی طور پر وہ مرحوم کے ترکہ میں حق دار نہیں ہے، لہذا مرحومہ کے ورثاء مرحوم کے ترکہ میں سے کسی طرح کے حق کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔

فتاوی شامی میں ہے

"وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكمًا كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه سيأتي." 

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:758، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200982
تاریخ01-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں