بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وارثوں کے لیے وصیت کا حکم

سوال

ایک جائیداد ہے،  اس کے نو  وارث ہیں،  دو بیٹے اور  سات بیٹیاں ۔ ان  کے ماں باپ نے وصیت کی تھی کہ ایک پورشن کا کرایہ لڑکیوں کو دیا جائے گا جب تک وہ حیات ہوں،فوت ہونے کے بعد ان کی اولاد کوئی حق نہیں ہوگا ۔ماں اور باپ کی وصیت  کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ وارثوں کے حق میں وصیت  پراگر تمام ورثاء عمل کرنا چاہیں  اور وہ عاقل بالغ ہوں تو سب کی رضامندی سے اس وصیت پر عمل ہوسکتا ہے، اگر کچھ ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ وصیت نافذ کرنے پر راضی ہوں تو ان کے حصے میں وصیت نافذ کی جائے گی، جو راضی نہ ہوں یا نابالغ ہوں ان کے حق میں وصیت نافذ نہیں  کی جائے گی؛  لہذا صورتِ مسئولہ میں والدین نے جو  یہ وصیت کی ہے کہ" ایک پورشن کا کرایہ  بیٹیوں کی حیات میں بیٹیوں کو ملتا رہے "  اس پر عمل ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہے ،اگر  ورثاء اس پر عمل پر رضامند نہ ہوں  تو مکمل جائیداد شرعی حصوں کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہوگی، البتہ اگر تمام بھائی بہن والدین کی وصیت ہر عمل کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے  ہیں ۔ 

الفتاوى الهندية میں ہے:

«و لاتجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة»

(کتاب الوصایا، باب اول ج نمبر ۶ ص نمبر ۹۰۔دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200936
تاریخ28-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں