بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے جنازے کو نامحرم کا کندھا دینا

سوال

کیا عورت کے جنازے کو ہر کوئی کندھا دے سکتا  ہے یا محرم کی کوئی شرط ہے؟ 

جواب

عورت کے جنازہ کے ہر شخص کندھا دے سکتا ہے، اس میں محرم کی شرط نہیں ہے، البتہ قبر میں صرف محرم مردوں کو اتارنا چاہیے، اگر محرم نہ ہوں یا کافی نہ ہوں تو غیر محرم نیک لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 / 603):

"يسن لحملها" حمل "أربعة رجال" تكريما له وتخفيفا وتحاشيا عن تشبيهه بحمل الأمتعة ... واعلم أن أصل الحمل والدفن فرض كفاية ولذا لا يجوز أخذ الأجرة على ذلك إذا تعينوا قهستاني وحمل الجنازة عبادة فينبغي لكل أحد أن يبادر إليها."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200874
تاریخ27-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں