بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز مومن کی معراج ہے، کیا یہ حدیث ہے؟

سوال

مجھے یہ بات معلوم کرنی ہے کہ نماز کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ "نماز مؤمن کی معراج ہے"، کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہاں تو اس کا حوالہ مرحمت فرمائیں!

جواب

یہ جملہ ، حدیث کی معتمد کتابوں میں سند کے ساتھ  نہیں ملتا، البتہ بعض کتابوں میں بلاسند ملتا ہے،لہذا  کسی معتبر سند کے بغیر اس کو بطور حدیث بیان کرنا درست نہیں، تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی بزرگ کا قول ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کیے بغیر یہ جملہ استعمال کیا جا سکتا ہے کہ نماز مؤمن کی معراج ہے؛ اس لیے کہ نماز انسان کو اللہ تعالیٰ سے ملانے کا ذریعہ ہے۔

الیواقیت الغالیۃ میں ہے:

"((الصلاۃمعراج المؤمن)) اشتهر علی ألسنة العوامّ أنّه حدیث مرفوع، و قد أوغلت في طلبه في مظانّه فلم أعرفه ولم أعثر له علی سند، و الظاهر أنّه من کلام بعض السلف." (2/62،66)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 624):

"و لذا قيل: الصلاة معراج المؤمن."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200872
تاریخ27-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں