بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا کزن سے شادی کے بعد اس کو بھائی کہہ کر پکارنا

سوال

میری شادی میری کزن کے ساتھ ہوئی ہے،  مگر وہ مجھےاپنا شوہرنہیں  مانتی ، وہ مجھےہر وقت بھائی بھائی کہہ کر بلاتی ہے۔ اب اس کیا نقصان ہوسکتا ہے؟

جواب

بھائی  کا رشتہ الگ ہوتا ہے، اور شوہر کا رشتہ الگ ہوتا ہے، شوہر بھائی نہیں ہوتا، اس لیے آپ کی بیوی کا شادی کے بعد آپ کو شوہر نہ سمجھنا غلط ہے، اور آپ کو ”بھائی“ کہہ کر پکارنا مکروہ ہے، یہ غلط عادت ہے، اس کو ختم کرنا ضروری ہے، البتہ اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

" فقد صرحوا بأن قوله لزوجته: يا أخية مكروه، وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلاً يقول لامرأته: يا أخية، فكره ذلك ونهى عنه، ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه."  (3/470، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200788
تاریخ26-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں