بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا امامہ نام رکھنا

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام  "امامہ"  رکھنا چاہتا ہوں،  وہ صبح فجر کے وقت2021/02/ 20 کو پیدا ہوئی  ہے، کیا یہ نام اس کے لیے بہتر ہے؟

جواب

امہ کا مادہ  ( ام م)   ہے جس کے معانی سیادت، قیادت، آگے بڑھنے کے ہیں۔ (المنجد، ص: ۱۷)

" امامہ " حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کا نام ہے، جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں ،" اُمامہ بنت أبی العاص" ۔(اسد الغابۃ ۳: ۳۵۹)

قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی نام کسی صحابیؓ یا صحابیہ  سے منسوب ہو تو اس کے معنیٰ کی طرف توجّہ دینے کی ضرورت نہیں؛ اس لیے  کہ  انبیاءِ کرام علیہم السلام اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں ناموں کے معانی نہیں دیکھے جاتے ، بلکہ ان کی شخصیت ونسبت  کی بنا پر ان ناموں کو رکھنے کی ترغیب ہے، کسی نام کے باسعادت اور بابرکت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی صحابی یا صحابیہ رضی اللہ عنہم کا نام ہے۔

لہذا آپ اپنی بیٹی کا نام  "اُمَامَہ" رکھ سکتے ہیں۔ یہ نام نسبت اور معنی دونوں اعتبار سے بہتر ہے۔

باقی تاریخِ پیدائش اور وقتِ پیدائش کے اعتبار سے یا حروف نکال کر نام رکھنے کی شریعت میں اصل نہیں ہے، اس طرف دھیان نہیں دینا چاہیے، نام کا معنی اچھا ہونا چاہیے یا نیک لوگوں کی نسبت سے رکھنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200762
تاریخ25-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں