بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ والے دن بچے کا سر منڈانا

سوال

 میں نے اپنے بیٹے کے عقیقہ کے بکرے تقریباً بارہ بجے ذبح کرواۓ اور  بچے کا سر  اسی دن بعد نماز عصر حلق کروایا، اب اس میں میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ؟ کیوں کہ مجھے اس وقت مکمل معلومات حاصل نہیں تھی!

جواب

ساتویں دن  مغرب سے  پہلے  پہلے تک  بچے کے بال منڈاکر اس کی بقدر چاندی صدقہ کرنا مستحب عمل  ہے؛  لہذا آپ نے  ساتویں دن کی مغرب سے پہلے بچے کا سر منڈواکر مستحب عمل کیا ہے، کوئی گناہ نہیں  کیا ۔

"و یستحب حلق رأس المولود یوم سابعه."

(إعلاء السنن، کتاب الذبائح / باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ۱۷؍۱۱۹)

"یستحب لمن ولد له ولد أن یسمّیه یوم أسبوعه و یحلق رأسه … ثمّ یعقّ عند الحلق عقیقة إباحة علی ما في الجامع المحبوبي أو تطوعًا علی ما في شرح الطحاوي."

(رد المحتار / کتاب الأضحیة ۶؍۳۳۶ دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200752
تاریخ25-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں