بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر واجبی ٹیکس کی ادائیگی میں جعلی نوٹ دینا

سوال

کیا جعلی نوٹ غیر واجبی ٹیکس کی ادائیگی میں دے سکتے ہیں ؟

جواب

جعلی نوٹ  بنانا ، یا اس کا استعمال کرنا شرعًا جعل سازی، جھوٹ، دھوکا  اور خیانت  جیسے  گناہوں پر مشتمل ہونے کے  ساتھ  ساتھ  انتظامی  قوانین  کی رو  سے سخت  قابلِ  تعزیر  جرم ہے،  لہذا ایسے نوٹوں کا  بنانا یا استعمال کرنا  جائز نہیں ہے۔

باقی  ٹیکس ظالمانہ  کی ادائیگی کے لیے متعلقہ اداروں کو حیلہ سے کچھ نہ دینا یا  غیر متقوم مال  دے دینا گناہ نہیں ہے، اور اس مقصد کے لیے جعلی نوٹ کا استعمال جائز نہیں ہوگا، جیساکہ ٹیکس سے بچنے کے لیے صاف جھوٹ کہنا جائز نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم

جائز اور ناجائز ٹیکس کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :

غیر منصفانہ ٹیکس کی ادائیگی کے لیے سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا / ٹیکس کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200747
تاریخ25-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں