بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کی چیز کا تاوان

سوال

کرایہ پر کوئی چیز دی،پھر وہ گم ہو گئی تو کیا اس کا تاوان ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کرائے پر دینے کے بعد کوئی چیز کرائے پر لینے والے کی غفلت کے بغیر کھو گئی،اور کرائے پر لینے والے کی جانب سے اس کی حفاظت میں کوئی کوتاہی بھی نہیں برتی گئی تھی تو اس صورت میں کرائے پر لینے والے پر اس چیز کا کوئی تاوان لازم نہیں۔ لیکن اگر کرائے پر لینے والے شخص نے اس چیز کی حفاظت درست طریقے سے نہیں کی اور وہ چیز کھو گئی تو اس صورت میں کرائے پر دینے والا شخص کرائے پر لینے والے شخص سے اس چیز کا تاوان وصول کرسکتا ہے۔تاوان  کرایہ پر دینے والی چیز کی مارکیٹ ویلیو ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200707
تاریخ24-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں