بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میڈیکل رپورٹ کی شہادت زنا کے ثبوت میں

سوال

کیا میڈیکل رپورٹ شہادت کے قائم مقام ہوسکتا ہے زنا کی حد میں؟

جواب

میڈیکل رپورٹ  زنا کے ثبوت کے لیے بطورِ شرعی  شہادت استعمال نہیں ہو سکتی ؛ اس لیے کہ حدود کے باب میں شریعت کا مزاج یہ ہے کہ یہ حدود  ادنی  شبہ   سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں ؛ لہذا میڈیکل رپورٹ کا ہونا  زنا  کے ثبوت کے  لیے کافی نہیں ہے۔البتہ   یہ تائیدی شہادت بن سکتی ہے، یعنی قاضی اس رپورٹ  سےاپنے فیصلہ میں  فائدہ  ضرور لے سکتا ہے، لیکن رپورٹ کی بنیاد پر زنا کا ثبوت کا حکم جاری نہیں کر سکتا۔ 

المبسوط -للسرخسي - ج ٩ - الصفحة ١٧٠:

"و هذا لأنّ الشبهة متمكنة في شهادتهم قبل التزكية و مع تمكن الشبهة لايقدم على استيفاء ما يندرئ بالشبهات."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200694
تاریخ24-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں