بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ختنہ ہندو سرجن سے کرانا

سوال

میرے بچے کو پیشاب کے نیچے کی گولیوں میں آنتوں کی بیماری ہے۔ hydrocell۔ اس کے علاج کے لیے  ہم نے ڈاکٹروں سے  رابطہ  کیا تھا تو  اب سوال یہ ہے کہ اس بیماری کا علاج ہندو سرجن کرتا ہے اور وہ میرے بیٹے کے کیس کے بارے میں جانتا بھی ہے تو کیا میں ان سے ختنہ کرا سکتا ہوں یا نہیں؟  یہ ابھی سات  مہینے کا ہے اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ بیماری اگر خود ٹھیک ہو جاتی ہے ایک سال کے اندر تو ٹھیک ہے،  ورنہ اس کا آپریشن کرنا پڑے گا۔

 

 

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  جب کہ  مذکورہ سرجن  اس بیماری کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے، آپ اپنے  بچے کی ختنہ  ہندو سرجن سے کرا سکتے  ہیں ۔

 ففی رد المحتار :2/423 :

” فيه إشارة إلى أن المريض يجوز له أن يستطب بالكافر فيما عدا إبطال العبادة.“

(كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحه لعدم الصوم )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200644
تاریخ23-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں