بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کی موجودگی میں پوتوں کا ترکہ میں حق

سوال

 اگر دو شادی شدہ صاحبِ اولاد بھائیوں میں سے ایک کا اپنے والد کی زندگی میں انتقال ہو جائے تو اس کی اولاد کو دادا کی وراثت میں سے حصہ ملے گا یا  نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہو جائے اور والد کی دیگر نرینہ اولاد بھی موجود ہو تو والد کے انتقال کی صورت میں صرف اُس کی اپنی اولاد وارث ہو گی، پوتوں کا اپنے دادا کی وراثت میں کوئی حق نہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (6/ 452):

"الأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200590
تاریخ22-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں