بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عضو تناسل چھونے سے وضو کا حکم

سوال

کیا کپڑوں کے اوپر سے ہی نفس کو چھونا یا خارش کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

عضو تناسل کو چھونے یا خارش کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، خواہ حائل کے ساتھ چھوا جائے یا بغیر حائل کے، جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے وہ  یہ ہیں:

* آگے یا پیچھے کی شرم گاہ سے کسی چیز کا نکلنا

* بدن کے کسی بھی حصے سے نجاست کا نکل کر بہہ جانا

* منہ بھر کر قے ہو جانا

*ٹیک لگا کر سو جانا

* بے ہوش یا پاگل ہو جانا

* رکوع و سجدے والی نماز میں قہقہہ مارنا

* شرم گاہوں کا بغیر حائل آپس میں ملنا۔

منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (ص: 66):

"قوله: (ومس الذكر لاينقض) وقال الشافعي: ينقض، لقوله عليه السلام "من مس فرجه فليتوضأ.

قلنا: المراد به غسل اليد للتنزيه، أو كان كناية عن الحدث، والخلاف: فيما إذا مس بباطن الكف، حتى لو مس بظاهر الكف أو برءوس الأنامل: لاينقض إجماعاً، وكذا الخلاف في مس الدبر."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200581
تاریخ22-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں