بیوی اور اس کی سوتیلی (ماں شریک) بہن کو نکاح میں جمع کرنا
سوال
میری اہلیہ کی والدہ نے دوسری شادی کی تھی، اُس سے اُن کی دو بیٹیاں ہیں، کیا میں اہلیہ کے ہوتے ہوئے ان میں سے کسی ایک سے شادی کر سکتا ہوں؟ دونوں کے والد الگ ہیں!
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب آپ کی ساس نے دوسری شادی کی اور اس سے اُن کی دو بیٹیاں ہوئیں تو وہ بیٹیاں آپ کی اہلیہ کی سوتیلی (ماں شریک) بہنیں ہوئیں اور دو سوتیلی بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، لہذا اہلیہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے آپ کا اپنی ساس کی دوسری بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔
العناية شرح الهداية (3/ 212) :
"(ولا يجمع بين أختين نكاحًا ولا بملك يمين وطئًا) لقوله تعالى : {و أن تجمعوا بين الأختين}، و لقوله عليه الصلاة و السلام : «من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يجمعن ماءه في رحم أختين»."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

