بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’اگر میں اپنی بیٹی کا رشتہ علی کو دوں تو میری بیوی کو طلاق‘‘ کہنے کا حکم

سوال

میں  نے قسم  کھائی  کہ اگر میں اپنی بیٹی کا رشتہ علی کو دوں تو میری بیوی کو طلاق۔ لیکن اب میں  اپنے گھر والوں کو کہتا ہوں  کہ اگر وہ دینا چاہتے ہیں تو خود سے دیں۔ اب اگر وہ رشتہ دیتے ہیں تو مجھ پر کیا حکم لاگو ہوگا؟ کیا میری بیوی کو طلاق ہوجائے گی؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں یہ کہنے ’’ اگر میں اپنی بیٹی کا رشتہ علی کو دوں تو میری بیوی کو طلاق‘‘ کے بعد اگر آپ خود اپنی بیٹی کا رشتہ ’’علی‘‘ کو دیں گے تو آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ  رجعی واقع ہوجائے گی،  عدت کے دوران رجوع کا حق ہوگا۔ لیکن اگر آپ کے کہے بغیر آپ کے گھر والے آپ کی بیٹی کا رشتہ ’’علی‘‘ کو دے دیتے ہیں اور آپ اس پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں تو اس صورت میں شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 420):

’’ إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرًا أو قبيلةً أو وقتًا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقًا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكًا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق، كذا في الكافي.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200515
تاریخ21-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں