بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر بنانے کی نیت سے خریدی گئی زمین میں زکات کا حکم

سوال

کسی شخص نے گھر بنانے کی نیت سے زمین خریدی، بعد میں اپنی  حیات میں اولاد کے  درمیان وہ زمین تقسیم کردی،  اس زمین میں زکات کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو  زمین گھر بنانے کی نیت سے خریدی گئی تھی اس زمین میں زکات واجب نہیں ہوگی چاہے بعد میں اولاد میں تقسیم کی جائے یا نہ کی جائے؛ کیوں کہ گھر بنانے کی نیت سے خریدی گئی زمین ’’مال نامی‘‘ (مثلًا مالِ تجارت، سونا، چاندی، نقدی وغیرہ)  نہیں ہے، جب کہ زکات صرف ’مالِ نامی‘ پر واجب ہوتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 259):

’’ (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ... (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم ... (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200502
تاریخ21-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں