بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’میں تیرا حساب کتاب کر دوں گا اور اتوار کو اپنا مہر لے لینا‘‘ کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم

سوال

 اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بحث  مباحثہ کے دوران  کہہ دے کہ  "میں تیرا حساب کتاب کر دوں گا اور اتوار کو اپنا مہر لے لینا"  اور اگر وہ اتوار کو یہ کام نہیں کرتا ہے اور مہر وغیرہ ادا نہیں کرتا توطلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سوال میں مذکورہ جملہ ’’میں تیرا حساب کتاب کر دوں گا اور اتوار کو اپنا مہر لے لینا‘‘ طلاق کا جملہ نہیں ہے؛ اس  لیے اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،  چاہے اتوار کو مہر ادا کرے یا نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200501
تاریخ21-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں