بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات، صدقات اور فدیہ وغیرہ کی رقم تحفہ، ہدیہ یا گفٹ کے نام سے دینے کا حکم

سوال

فرض اور واجب صدقات و خیرات تحفہ اور گفٹ کا لفظ بول کر دینے سے ادا ہوجائیں گے یا نہیں ؟

جواب

کسی غریب کو زکات ، صدقہ یا فدیہ وغیرہ کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا لازم نہیں ہے کہ یہ زکات یا صدقہ یا فدیہ کی رقم ہے، بلکہ مستحقِ زکاۃ غریب کو زکات (مثلًا) کی رقم تحفہ، ہدیہ یا گفٹ کے نام سے دی جائے تو بھی زکات ادا ہوجائے گی، بشرطیکہ زکات ادا کرنے والے کے دل میں زکات  یا فدیہ  دینے کی نیت ہو۔

الفتاوى الهندية (1/ 171):

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية''۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200500
تاریخ21-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں