بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فاتحہ کے نام پر کیا گیا چندہ مسجد، مدرسہ میں استعمال کرنا

سوال

فاتحہ کے نام پر کیے گئے چندے  کا پیسہ مسجد یا مدرسہ کے کسی کام میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

بزرگوں کے نام پر فاتحہ دینا ، یا فاتحہ کے نام پر چندہ کرنا صحابہ کرام ،تابعین و تبع تابعین رضی اللہ عنہم  یا ائمہ مجتہدین میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے، اس لیے یہ امور بدعات میں شامل ہیں، ان سے احتراز کرنا لازم ہے۔ لہذا فاتحہ کے نام پر جمع کی گئی رقم اس رقم کے مالک افراد کو واپس کرنا لازم ہے، البتہ متعلقہ افراد کی اجازت سے اب وہ رقم مسجد یا مدرسہ میں خرچ کی جائے تو جائز ہے۔ (کفایت المفتی، 1/219دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200462
تاریخ20-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں