بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا امام سے سبقت کرجانا

سوال

مقتدی کا سہواً امام سے سبقت کر جانے کا حکم کیا ہے؟

جواب

امام سے سبقت کرنا ممنوع ہے،اس پر شدید وعید وارد ہوئی ہے ،البتہ اگر سہوًا سبقت ہوجائے تو امام  کی  ہیئت میں  لوٹ جانا  چاہیے، یعنی امام جس رکن کی ادائیگی میں مشغول ہے، مقتدی بھی اسی میں شامل ہوجائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا رفع المقتدي رأسه من الركوع أو السجود قبل الإمام ينبغي أن يعود و لايصير ركوعين وسجودين، كذا في الخلاصة."

(كتاب الصلاة. الباب الخامس في الإمامة، الفصل السادس فيما يتابع الإمام وفيما لايتابعه، ١ / ٩٠، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200454
تاریخ20-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں