بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دروازہ کھولنے کے لیے نماز توڑنے کا حکم

سوال

میں  نماز   پڑھ  رہا  تھا  کہ  کسی  نے  میرے  دروازے  پر  دستک  دی  اور   میں  نے  نماز  توڑ  کر  دروازہ  کھولا،  اب میرا کیا کفارہ ہوگا؟

جواب

بلا کسی شدید ضرورت کے نماز کو توڑنا جائز نہیں ہے، اگر آپ نے کسی کے دستک دینے  کی وجہ سے دروازہ کھولنے کے  لیے نماز توڑ دی تو اگر کوئی شدید ضرورت نہیں تھی تو  ایسا کرنے کی وجہ سے آپ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور آپ پر اس گناہ سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے، البتہ الگ سے کوئی  کفارہ لازم نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 654):

’’و يباح قطعها لنحو قتل حية، وند دابة، وفور قدر، وضياع ما قيمته درهم له أو لغيره. ويستحب لمدافعة الأخبثين، وللخروج من الخلاف إن لم يخف فوت وقت أو جماعة ويجب لإغاثة ملهوف وغريق وحريق، لا لنداء أحد أبويه بلا استغاثة إلا في النفل، فإن علم أنه يصلي لا بأس أن لا يجيبه، وإن لم يعلم أجابه.

(قوله: لا لنداء أحد أبويه إلخ) المراد بهما الأصول وإن علوا، وظاهر سياقه أنه نفي لوجوب الإجابة فيصدق مع بقاء الندب والجواز ط. قلت: لكن ظاهر الفتح أنه نفي للجواز. وبه صرح في الإمداد بقوله أي لا قطعها بنداء أحد أبويه من غير استغاثة وطلب إعانة لأن قطعها لايجوز إلا لضرورة.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200364
تاریخ18-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں