بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر کی قضا کا حکم

سوال

کیا وتر کی قضا ہو سکتی ہے؟

جواب

عشاء کی  نماز  میں  تین  رکعت  وتر  پڑھنا  واجب  ہے،  اس لیے اگر عشاء کے وقت میں وتر نہ پڑھے تو بعد میں ان کی قضا کرنا لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 66):

"(وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب.

(قوله: وقضاء الفرض إلخ) لو قدم ذلك أول الباب أو آخره عن التفريع الآتي لكان أنسب. وأيضًا قوله: والسنة يوهم العموم كالفرض والواجب وليس كذلك، فلو قال: وما يقضى من السنة لرفع هذا الوهم رملي. قلت: وأورد عليه الوتر، فإنه عندهم سنة، وقضاؤه واجب في ظاهر الرواية، لكن يجاب بأن كلامه مبني على قول الإمام صاحب المذهب."

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200349
تاریخ18-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں