بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’عنسیہ‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم

سوال

عنسیہ نام کا کیا مطلب ہے ؟ اور لڑکی کا عنسیہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’عنس‘‘ یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے، اس اعتبار سے مذکورہ قبیلہ کی طرف منسوب مرد کو ’’عنسی‘‘ اور عورت کو ’’عنسیۃ‘‘ کہا جاتا ہے، جس طرح قبیلہ ’’قریش‘‘ کی طرف منسوب خاتون کو ’’قریشیہ‘‘ کہا جائے گا، اس اعتبار سے جس خاتون کا تعلق ’’عنس‘‘ قبیلہ سے نہ ہو اس کا نام ’’عنسیہ‘‘ رکھنا مناسب نہیں ہے، کیوں کہ یہ نام رکھنے میں ایک خلافِ واقعہ بات یا نسبت کا دعویٰ پایا جائے گا، اس  لیے بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام پر رکھا جائے۔

لسان العرب (6/ 150):

’’ وعَنْسٌ: قَبِيلَةٌ، وَقِيلَ: قَبِيلَةٌ مِنَ الْيَمَنِ؛ حَكَاهَا سِيبَوَيْهِ؛ وأَنشد:

لَا مَهْلَ حَتى تَلْحَقي بعَنْسِ، ... أَهلِ الرِّياطِ البِيضِ والقَلَنْسِ ‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200331
تاریخ18-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں