بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اورہان نام کے معنی اور نام رکھنے کا حکم

سوال

اورہان نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

اورہان ترکی زبان کا لفظ ہے،  بعض ذرائع ابلاغ میں اس کا ترجمہ اردو میں : عظیم راہ نما، اور لیڈر کا کیا گیا ہے۔

اور ”اورہان“  جسے تاریخ کی کتابوں میں ”اورخان“ کے تلفظ کے ساتھ بھی لکھا گیا ہے، یہ   سلطنتِ عثمانیہ کے دوسرے سلطان تھے جو کہ 1281 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ 1326 عیسوی میں عثمان غازی کی وفات کے بعد  "اورہان"  نے سلطنت  کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

ان کے نام پر نام رکھنا جائز ہے، البتہ ہمارے  ہاں برصغیر میں چوں کہ یہ غیر مانوس نام ہے،   اس لیے کوئی عربی نام یا صحابہ کے ناموں میں سے انتخاب کرکے نام رکھا جائے تو یہ زیادہ اچھا ہے۔

تاريخ الدولة العلية العثمانية (1 / 122):

"أورخان الأوّل

و عقب ذَلِك بِقَلِيل استدعي اورخان إِلَى وَالِده فَوَجَدَهُ فِي حَالَة النزع وَلم يلبث ان اسْلَمْ الرّوح إِلَى بارئ النسمات ومبدع الكائنات بعد ان اوصى للْملك بعده لاورخان ثَانِي اولاده الْمَوْلُود فِي سنة 1281 م لاتصافه بعلو الهمة والشجاعة والاقدام وَلم يوص بهَا لبكر اولاده عَلَاء الدّين لميله إِلَى الْوَرع وَالْعُزْلَة وَتُوفِّي رَحمَه الله فِي 21 رَمَضَان سنة 726 هجرية 1326 م عَن سبعين سنة قضى معظمها فِي تأسيس هَذِه الدولة الفخيمة الملحوظة بِعَين الْعِنَايَة الربانية وتوسيع نطاقها وَدفن فِي مَدِينَة بورصة وَبَلغت مُدَّة حكمه 27 سنة."

شذرات الذهب في أخبار من ذهب (8 / 326):

"سنة إحدى وستين وسبعمائة

فيها توفي أورخان بن عثمان السلطان العظيم ثاني ملوك بني عثمان.

ولي سنة ست وعشرين وسبعمائة [2] بعد وفاة والده السلطان عثمان حق أول ملوك بني عثمان، وكانت ولاية صاحب الترجمة في أيام السلطان حسن صاحب مصر."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200327
تاریخ18-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں