بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں ملی ہوئی رقم کا حکم

سوال

مسجد میں کچھ رقم ملی ہے،  اس رقم کے  ساتھ  کچھ  شواہد  بھی  ملے  بار  بار  اطلاع  کرنے  پر  کوئی  رابطہ  نہیں کر رہا،  اب اس رقم کو کہاں خرچ کریں، کسی غریب کو دے سکتے  ہیں یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ  مذکورہ  رقم  ملنے  کے بعد  اگر  مالک  معلوم  ہے  (جیسے کہ سوال سے یہی ظاہر  ہورہا ہے) تو  مذکورہ  رقم  "لُقَطَہ"  کے حکم میں نہیں ہے، لہذا یہ رقم   اس کے مالک کی امانت ہے، اور  ان کے حوالے کرنا ضروری ہے، مالک کی اجازت کے بغیراس رقم میں کسی طرح  کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"هِيَ مَالٌ يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ وَلَا يُعْرَفُ لَهُ مَالِكٌ بِعَيْنِهِ، كَذَا فِي الْكَافِي." 

(كتاب اللقطة، ج:2، ص:289، ط:مكتبة رشيدية) 

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200303
تاریخ18-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں