بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائش سے پہلے نام رکھ کر بدلنا

سوال

بچے کی پیدائش سے پہلے  "محمد مصطفیٰ"  نام رکھا،  اب عقیقہ کے وقت اس کا نام "محمد اشعر"  رکھنا چاہتے ہیں،  شرعاً کوئی مسئلہ تو نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں پیدائش سے پہلے جو نام رکھا اس کا  اعتبار نہیں ہے ،نام رکھنے کا اعتبار تو پیدائش کے بعد ہی ہے، نیز پیدائش کے بعد بھی نام رکھ کر بدلا جاسکتاہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جو بھی نام رکھا جائے وہ اچھے معنی پر مشتمل ہو، یا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو؛  لہذا  "محمد اشعر"  نام رکھا جاسکتا ہے، البتہ  "محمد مصطفی " نام  رکھنا زیادہ بہتر ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200223
تاریخ16-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں