بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی اولاد کی موجودگی میں داداکی میراث میں پوتا حصہ دار نہیں بنتا

سوال

(دادا کی میراث میں پوتے کا حصہ)   ہمارے ایک چچا کا انتقال 1984 میں ہوا تھا،  جب کہ ہمارے دادا  کا انتقال 1989 میں ہوگیا تھا،  ہمارے متوفی  چچا کا ایک بیٹا ہے،  کیا  ہمارے  دادا  کی میراث میں ہمارے  چچا زاد  کا کوئی حصہ ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر دادا کی وفات کے وقت ان کے دیگر بیٹے حیات تھے تو  دادا کی وفات سے پہلے فوت ہونے والے بیٹے کے بیٹے کا داداکی  میراث میں حصہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی دادا کی حیات میں فوت ہونے والے حقیقی بیٹے کا دادا کی میراث  میں شرعی طور پر حصہ بنتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200192
تاریخ16-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں