بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی رقم معاف کرنے سے معاف ہوجاتی ہے

سوال

میرے ایک عزیز نے اپنے تایا سے جھوٹے بہانے تقریبًا ایک کروڑ روپے وقفہ وقفہ سے لیے تھے، بعد میں جب اس کے تایا کو اس بات کا پتا چلا تو کچھ ناراضی کے بعد انہوں نے کہا کہ میں نے معاف کردیے ہیں اور کئی مرتبہ کہا ہے؛ کیوں کہ ان کے بھائی ( جس کے بیٹے نے پیسے لیے تھے ) کا کچھ سال پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ لیکن اس کے تایا کا بیٹا مسلسل کئی سالوں سے اسے پریشان کررہا ہے کہ بس پیسے واپس کرو، وہ قتل تک کی دھمکی دے چکا ہے تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا شرعًا اس کا پیسے واپس کرنا ضروری ہے اور اگر نہ کرے تو کیا گناہ گار ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مذکورہ شخص نے اپنے تایا سے یہ رقم بطورِ قرض لی تھی تو اس کی ادائیگی اس پر لازم تھی، لیکن صاحبِ قرض  چوں کہ اپنے مال پر مکمل حق رکھتا ہے  اور   سائل کے بقول  وہ  (مذکورہ شخص کے تایا)  اپنا قرض اپنی زندگی میں ہی معاف کرچکے ہیں؛  لہٰذا اس کا اپنا قرضہ معاف کرنا درست ہوا اور مذکورہ شخص کا قرضہ معاف ہوگیا؛ اب مذکورہ شخص کےتایا کے بیٹے کے لیے جائز نہیں کہ وہ مذکورہ شخص سے معاف کی ہوئی رقم کا مطالبہ کرے۔ 

چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے : 

"الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها."

( الفتاوى الهندية: كتاب الهبة، الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ومالا يمنع، ( 3/385) ط: رشيديه )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200034
تاریخ13-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں