بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو تین دن کے لیے 100 کلومیٹر کا سفر ہو تو قصر کا حکم

سوال

میں کاروباری سلسلے میں اپنے گھر سے لگ بھگ ایک سو کلو میٹر کے سفر پر دو تین دنوں کے لیے جارہا ہوں۔ دوران سفر اور منزل پر پہنچنے کے بعد  مجھے کس طریقے سے نمازیں ادا کرنی چاہیے ؟

جواب

جوشخص  اپنے شہر یا بستی سے باہر مسافتِ سفریعنی48میل یا77٫24 یعنی تقریباً  سواستترکلومیٹر کی مسافت تک سفرکے ارادے سے نکلا ہو اور کسی ایک شہر یا بستی میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو تو ایساشخص اپنے شہرکی آبادی اورحدودختم ہونے کے بعد یعنی اپنے شہرسے نکلتے ہی قصرنمازاداکرے گا۔اورجب سفرسے واپسی پراپنے شہرکی حدودمیں داخل ہوگیاتواب مکمل نمازاداکرے گا۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ اپنے علاقے کی آبادی سے باہر 100 کلومیٹر کے سفر پر جاتے ہیں تو آپ شہر کی حدود سے نکل کر قصر کریں گے،  یعنی ظہر، عصر اور عشاء کی نماز انفرادی پڑھنے کی صورت میں یا امام ہونے کی صورت میں دو رکعت پڑھیں گے اور واپسی میں اپنے شہر کی حدود میں داخل ہونے کے بعد مکمل نماز پڑھیں گے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 121):

"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا (قاصدًا) ولو كافرًا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207200010
تاریخ13-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں