بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک ہی شخص کے لیے زکات وصول کرنے اور ادا کرنے کے لیے وکیل بننے کا حکم

سوال

ایک ہی شخص کا زکوٰۃ لینے اور دینے کا وکیل بنناکیساہے ؟

جواب

ایک شخص کا زکات ادا کرنے والوں اور زکات وصول کرنے والوں کی طرف سے وکیل بننا جائز ہے۔

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 271) :

" و حيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي."

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 271):

"(قوله: فإن مانعه إلخ) و الحيلة إذا خاف ذلك ما في الأشباه، وهو أن يوكل المديون خادم الدائن بقبض الزكاة ثم بقضاء دينه، فبقبض الوكيل صار ملكا للموكل."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201590
تاریخ12-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں