بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ریح خارج ہونے، خون نکلنے یا سونے کی صورت میں استنجا کا حکم

سوال

کیا ریح خارج ہونے سے یا خون نکلنے سے یا سونے سے استنجا  کرنا لازمی ہے؟

جواب

شرم گاہ سے کسی ظاہری نجاست کے نکلنے کے بعد استنجا کرنا لازمی ہوتاہے،لہذا  ریح خارج ہونے، خون نکلنے  یا سونے سے وضو  ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے     اس کے بعد   قرآن مجید کی تلاوت یا نماز وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہوگا ، لیکن استنجا  کرنا  لازم نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"فصل: الاستنجاء: إزالة نجس عن سبيل فلايسن من ريح وحصاة ونوم وفصد". (1/335)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201534
تاریخ11-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں