بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام نیمل رکھنا

سوال

میری بیٹی کا نام "نیمل"  ہے، اس کے معنی ’’اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا خوب صورت تحفہ‘‘ ہیں۔  کیا یہ نام درست ہے ؟

جواب

نیمل کا لفظ اردو، عربی اور فارسی کسی لغت میں نہیں مل سکا، کسی اور زبان کا لفظ ہو تو ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔

البتہ عربی میں "نمل" (نَمَل: Namal) کا لفظ بطورِ مصدر استعمال ہوتاہے، اس کا معنٰی ہے: کسی چیز یا جگہ کا چیونٹیوں والا ہونا/ چیونٹیوں کی کثرت ہونا/ پاؤں کا سن ہوجانا/ نتھنے میں ایسی گدگی کا احساس جیسے جسم پر چیونٹی چلنے سے گدگی سے ہوتی ہے۔ یہ نام (نَمَل) رکھنا مناسب نہیں ہے۔

بہرصورت "نیمل" کے بجائے کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کے نام پر نام رکھنا بہتر ہو گا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201520
تاریخ10-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں