بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ہسپتال سے دوائی لینا

سوال

میں سرکاری  ہسپتال میں ملازمت کرتی ہوں، کیا ہسپتال کی ڈسپنسری سے میں اپنی یا اپنی فیملی کی دوائیاں لے سکتی ہوں؟ جب کہ میں باہر سے خریدنے کی  استطاعت  رکھتی ہوں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  آپ جس ہسپتال میں ملازمت کرتی ہیں،  اگر اس ہسپتال کی ڈسپنسری سے دوائیاں مفت دی جاتی ہیں اور آپ وہاں سے مفت دوائیاں لینے سے متعلق پوچھ رہی ہیں تو  اس کا جواب یہ ہے کہ  اگر اس ہسپتال کی انتظامیہ یا مجاز  عہدیداران کی طرف سے آپ کو اپنی اور اپنی  فیملی کی دوائیاں ہسپتال کی ڈسپنسری سے لینے کی  سہولت دی گئی ہو  تو آپ کے لیے شرعاً اپنی دوائیاں  ہسپتال کی ڈسپنسری سے لینا جائز ہو گا، اور اگر آپ کو یہ سہولت نہ دی گئی ہو اور اس  ڈسپنسری  سے محض غرباء کو مفت  دوائیاں دی جاتی ہوں تو ایسی صورت میں آپ  کا اس ڈسپنسری سے دوائیاں لینا جائز نہیں ہو گا اور اگر اس ڈسپنسری سے ہر خاص و عام کو دوائیاں مفت دی جاتی ہوں، یہ سہولت  غرباء کے ساتھ مخصوص  نہ ہو تو آپ کے لیے ہسپتال سے مفت  دوائیاں  لینا جائز ہو گا۔ اور اگر یہ دوائیں زکاۃ کی مد میں ہوں اور آپ زکاۃ کی مستحق نہ ہوں تو آپ کے لیے یہ دوا لینا جائز نہیں ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201438
تاریخ09-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں