بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

متنازع زمین پر مسجد بنانا

سوال

جنجالي زمين (متنازع زمین)  پر مسجدبنانے سے متعلق  اسلام میں کیا حکم هے؟

جواب

مساجد  زمین میں اللہ کے  گھر ہیں، اس لیے مسجد ایسی جگہ قائم کرنی چاہیے  جو جگہ جھگڑے، فتنے اور  فساد  سے پاک ہو،  اگر کوئی زمین  ایسی ہو جس  سے متعلق تنازع ہو  اور ہر ایک کا یہ دعویٰ ہو کہ یہ زمین ہماری ہے ایسی جگہ مسجد نہیں بنانی چاہیے؛ تاوقتیکہ اس زمین سے متعلق کوئی بات واضح نہ ہو جائے، پھر جب کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ ہو جائے تو اس فریق کا اس زمین کو مسجد بنانا درست ہو گا۔

یاد رہے  کہ جو زمین کسی کی مملوکہ ہو اور اسے غصب  کرکے  اس  پر مسجد تعمیر کر دی جائے تو ایسی جگہ مسجد تعمیر کرنے سے وہ مسجدِ شرعی نہیں بنے گی اور اُس میں نماز پڑھنا بھی  مکروہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 109):

"الصلاة في أرض مغصوبة جائزة، و لكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب."

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 46):

"وإن صلى في ثوب مغصوب أو توضأ بماء مغصوب أو صلى في أرض مغصوبة فصلاته في ذلك كله صحيحة."

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 130):

"و" تكره في "أرض الغير بلا رضاه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201428
تاریخ09-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں