بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ پلانے میں شک ہو تو حرمتِ رضاعت نہیں ہوتی

سوال

1 : میں نے جس لڑکی کے ساتھ دودھ پیا ہے، اس کے بڑے بھائی، جو مجھ سے  4 یا 5 سال بڑے ہیں، اس سے  میرا  نکاح ہوسکتا ہے ؟

2 : اس کی والدہ کہتی ہیں کہ انہیں شک ہے کہ میں نے دودھ پیا تھا یا میں سو گئی تھی، اب کیا حکم ہوگا ؟

جواب

1 :  جس لڑکی کی والدہ کا دودھ پیا ہو، اس  کا بھائی بھی رضاعی بھائی ہوجاتاہے؛ لہذا اس سے نکاح جائز نہیں ہوتا۔

2 :  اگر  مذکورہ  خاتون کو  شک  ہے  اور  دودھ  پلانا یقینی نہیں ہے تو  شک  کی وجہ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوئی اور  نکاح کرنا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 212):

"وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك".

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201403
تاریخ08-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں