بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلالہ مرد کا اپنے بھائیوں میں سے ایک بھائی کو زندگی میں حصہ دینا

سوال

کلالہ مرد اگر 5 بھائیوں میں سے ایک بھائی کو اپنا حصہ دے،  کلالہ زندہ بھی ہے اور صحت بھی اچھی ہے تو کلالہ کے مرنے کے بعد ، باقی بھائی اس کی میراث لے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک  ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے، لہذا اگر  کسی شخص کے ورثاء میں ایک صرف اس کے بھائی ہوں اور وہ اپنی  زندگی میں ا پنے بھائیوں میں سے  ایک بھائی  کو کچھ دے تو یہ   ہدیہ اور گفٹ کہلاتا ہے،  اگر زندگی میں اس بھائی کو حصہ دینے کے بعد اس کو قبضہ  اور تصرف بھی دے دے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا، اور پھر ہدیہ کرنے والے کلالہ کے انتقال کے بعد ،  اس  ہدیہ  کیے ہوئے حصے میں دیگر ورثاء کا حق نہیں ہوگا، البتہ مذکورہ بھائی  اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ باقی  ترکہ  میں حصہ دار ہوگا۔

البتہ باقی بھائیوں کو محروم کرنے کی غرض سے ایک بھائی کو جائیداد دینا  ناانصافی ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201384
تاریخ08-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں