سر پر مسح کا مسنون طریقہ
سوال
کیا سر کا مسح کرتے وقت ہاتھوں کو پھر پیچھے سے لانا چاہیے اور شہادت کی انگلیوں اور انگوٹھوں کو سر کے بالوں پر لگنے سے بچانا چاہیے؟
جواب
سر پر مسح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سرکے ابتدائی حصہ پر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں رکھ کرگردن تک ایسے طریقے سے لے جائیں کہ اس سے تمام سر کا احاطہ ہو ، اسی طریقہ سے سر کے مسح کرنے کو فقہاء نے مسنون لکھا ہے، اس مسنون طریقہ کی رو سے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے لے جاکر واپس لانے کی اور انگلیوں اور انگوٹھوں کو سر کے بالوں پر لگنے سے بچانے کی ضرورت نہیں ہے۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 20):
"و المسنون في كيفية المسح: أن يضع كفيه وأصابعه على مقدم رأسه آخذاً إلى قفاه على وجه يستوعب، ثم يمسح أذنيه على ما يذكره، وأما مجافاة السباحتين مطلقاً ؛ ليمسح بهما الأذنين والكفين في الإدبار ؛ ليرجع بهما على الفودين، فلا أصلَ له في السنة."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

