بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سر پر مسح کا مسنون طریقہ

سوال

کیا سر  کا مسح کرتے وقت  ہاتھوں کو پھر پیچھے  سے لانا چاہیے  اور شہادت کی انگلیوں  اور انگوٹھوں کو سر کے بالوں پر لگنے سے بچانا چاہیے؟

جواب

سر پر مسح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ  سرکے ابتدائی حصہ پر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں رکھ کرگردن تک ایسے طریقے سے لے جائیں کہ اس سے تمام سر کا احاطہ ہو ،  اسی طریقہ سے سر کے مسح کرنے کو فقہاء نے مسنون لکھا ہے، اس مسنون طریقہ کی رو سے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے لے جاکر واپس لانے کی  اور انگلیوں اور انگوٹھوں کو سر کے بالوں پر لگنے سے بچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 20):

"و المسنون في كيفية المسح: أن يضع كفيه وأصابعه على مقدم رأسه آخذاً إلى قفاه على وجه يستوعب، ثم يمسح أذنيه على ما يذكره، وأما مجافاة السباحتين مطلقاً ؛ ليمسح بهما الأذنين والكفين في الإدبار ؛ ليرجع بهما على الفودين، فلا أصلَ له في السنة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201362
تاریخ08-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں