بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امیمہ ماریہ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

"امیمہ  ماریہ"  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"امیمہ "کا معنی:

"امیمہ" (اُمَیْمَهْ)  اُم ّ کی  تصغیر ہے، جس کا معنی ہے "ماں"، تصغیر  مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے، کبھی معنیٰ میں اضافہ و تعظیم کے لیے اور کبھی کمی اور تحقیر کے لیے، کبھی اظہارِ محبت کے لیے۔  بہرحال یہ بہت سی  صحابیات رضی اللہ عنہن کا نام تھا۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ 8/31)، اور صحابہ  اور صحابیات کے  جن ناموں کو رسول اللہ ﷺ نے تبدیل نہیں کیا ان ناموں پر نام رکھنے میں معنی بھی ملحوظ نہیں ہوتے، بلکہ صرف ان کے نام پر نام رکھنا ہی باعث برکت ہوتا ہے، لہذا یہ نام رکھنا جائز ہے۔

’’ماریہ‘‘   کا معنی:

’’ماریہ‘‘  نام رکھنا درست، بلکہ باعثِ برکت ہے؛ کیوں کہ ’’ماریہ‘‘ رسول اللہ  ﷺ  کی وہ باندی تھیں جن سے آپ ﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ تولد ہوئے۔  ’’ماریہ‘‘ کا معنیٰ ہے: سفید رنگت والی۔

لڑکیوں کے نام کے ساتھ عموماً  شادی سے پہلے والد کا اور شادی کے بعد اُس کے شوہر کا نام لگایا جاتا ہے ، لہٰذا صرف "امیمہ"  یاصرف  "ماریہ " نام  رکھنا اور  اس کے ساتھ والد کا نام  لگانا زیادہ بہتر  ہوگا۔ البتہ دونوں کو ملاکر ایک ہی لڑکی کا نام رکھنا بھی درست ہے۔

القاموس المحيط (ص: 477):

"وامرأة مارية: بيضاء". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201354
تاریخ08-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں