بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالِ مشترک میں دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا

سوال

 کیا مالِ مشترک میں سے دوسرے شراکت دار کی اجازت کے بغیر کھانا جائز ہے؟

جواب

مالِ مشترک میں سے ایک شریک کا دوسرے شریک کے حصے میں اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔

کما فی الہندیۃ   (2/ 301): 

"و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه." 

( كتاب الشركة ، الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانها وشرائطها وأحكامها، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ط: رشیدیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144206201339
تاریخ07-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں