بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ غیر سودی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ اور انشورنس/ تکافل پالیسی لینے کا حکم

سوال

بینک اسلامی اور میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹس اور انشورنس پر مکمل تحقیق کر کے اکابرین کی طرف سے فتویٰ جاری کیا جائے!

جواب

میزان بینک یا  مروجہ غیر سودی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ  کھلوانا یا کسی قسم کا تمویلی لین دین کرنا جائز نہیں ہے،کیوں  کہ  مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے ۔

تفصیل کے لیے مندرجہ  ذیل دوکتابوں کامطالعہ مفید ہوگا:

1: "مروجہ اسلامی بینکاری" شائع کردہ مکتبہ بینات، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔

2: "غیرسودی بینکاری"، ایک منصفانہ علمی جائزہ از مفتی احمدممتاز صاحب۔

نیز   کسی بھی قسم کی  بیمہ (انشورنس) پالیسی  سود اور قمار (جوا) کا مرکب  ومجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، مروجہ انشورنس کے متبادل کے طور پر  بعض ادارے  جو نظام  ”تکافل“ کے عنوان سے  چلارہے ہیں وہ بھی جائز نہیں، لہذا میزان بینک یا دیگر اداروں کی تکافل پالیسی لینے اور اس میں رقم جمع کرانے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

 تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :

تکافل ماڈل اور اس کی شرعی خرابیاں

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201326
تاریخ07-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں