بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا یا افطاری کر نا

سوال

معتکف  کا دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا یا افطاری کر نا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 اعتکاف  میں بیٹھنے والوں کے لیے  مسجد میں رہتے ہوئے  کھانا، پینا اور افطار کرنا درست ہےاور جو لوگ اعتکاف کی نیت سے  نہیں بیٹھے ان کے لیے مسجد میں  افطار کرنا درست نہیں ہے، اس لیے غیرمعتکف اگر  معتکف کے ساتھ افطاری کرنا چاہتا ہے تو مسجد میں داخل ہوتے وقت نفل اعتکاف کی نیت کرلے اور کچھ اللہ کا ذکر وغیرہ کرلے ، تو اس  صورت میں اس کا  مسجد کی حدود میں افطار  کرنا اور معتکف کے لیے بھی مسجد کی حدود میں اس کے ساتھ  افطار کرنا یا کھانا کھانا جائز ہوگا۔

الفتاوى الهندية (5 / 321):

 وَيُكْرَهُ النَّوْمُ وَالْأَكْلُ فِيهِ لِغَيْرِ الْمُعْتَكِفِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْوِيَ الِاعْتِكَافَ فَيَدْخُلَ فِيهِ وَيَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى بِقَدْرِ مَا نَوَى أَوْ يُصَلِّيَ ثُمَّ يَفْعَلَ مَا شَاءَ، كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ.

فقط واللہ اعلم

 

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201302
تاریخ07-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں