بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کے نکاح پر اس کے رضاعی باپ کا نام لکھا جائے گا یا حقیقی باپ کا؟

سوال

لڑکے کے نکاح پر اس کے رضاعی باپ کا نام لکھاجائےگا یا حقیقی باپ کا؟

جواب

نکاح فارم پر دلہا کے حقیقی باپ کا نام لکھنا چاہیے ؛ اس لیے کہ فارم پر لکھے ہوئے  والد کے نام کے خانے سے مراد حقیقی والد ہی ہوتا ہے، اور حقیقی والد کو چھوڑ کر کسی دوسرے شخص کی طرف اپنی نسبت کرنا جائز نہیں ہے، عام حالت میں بھی رضاعی والد سے رشتہ بتاتے ہوئے بھی وضاحت کرنی چاہیے  کہ فلاں  رضاعی والد ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201291
تاریخ06-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں