بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرم میں امام کے ساتھ وتر پڑھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ  کرام رمضان المبارک میں حرم  میں  جماعت کے ساتھ وتر پڑھنے کا کیا حکم ہے ، حال آں کہ صلاة البتيرة  پڑھنے کی ممانعت آئی ہے؟

جواب

حنفی مسلک میں وتر کی نماز تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے ؛ اس لیے حنفی کے لیے   دو سلام کے ساتھ  وتر پڑھنا درست نہیں ہے،حنفی حضرات کو چاہیے کہ وہ حرمین میں تراویح تو  ان کے امام کی اقتدا ہی میں ادا کریں،  لیکن وتر کی نماز میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، بلکہ اپنی علیحدہ اجتماعی یا انفرادی پڑھ لیں ،  اور اگر ان کے ساتھ  ادا کرلیں تو بعد میں اس کا اعادہ کرلیں۔

"فظهر بهذا أنّ المذهب الصحيح صحّة الاقتداء بالشافعي في الوتر إن لم يسلّم على رأس الركعتين وعدمها إن سلّم، والله الموفق للصواب."

(البحر الرائق، 2/40، باب الوتر والنوافل، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201290
تاریخ06-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں