بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغہ کے زیور میں زکات

سوال

میری  سات سال کی بیٹی ہے۔اگر میں یہ نیت کروں کہ میں  اپنی بیوی کا زیور اپنی بیٹی کی شادی پر اس کو  دے دوں گا تو کیا اس پر  زکات لازم ہوگی یا نہیں ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب کہ  یہ زیور ابھی آپ کی بیوی کی ملکیت میں ہے اور آپ کا ارادہ یہ ہو کہ آپ یہ اپنی بیٹی کی شادی پر بیٹی کو دے دیں گے تو اس صورت میں  چوں کہ ابھی ملکیت بیوی کی ہے؛ لہذا  اگر آپ کی بیوی صاحبِ  نصاب ہو تو  آپ کی بیوی پر اس زیور  کی زکات لازم ہوگی۔ لیکن اگر آپ یہ سارا زیور  ابھی بیٹی کی ملکیت میں دے دیں اور بیٹی کا اس کی جانب سے قبضہ کرلیں تو اس صورت میں چوں کہ  وہ زیور بیٹی کا  ہوجائے گا تو اس پر  زکات لازم نہیں ہوگی ؛ البتہ  اس صورت میں چوں کہ یہ نابالغ بیٹی کا زیور  ہوجائے گا؛  اس لیے اس کی ماں کو اس کا استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرط افتراضہا (الزکاة): عقل وبلوغ وإسلام - قال ابن عابدین: قولہ: عقل وبلوغ: فلا تجب علی مجنون وصبي."

(الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۱۷۳، کتاب الزکاة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201271
تاریخ06-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں