بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر شروع کرتے ہوئے فجر کا وقت ہوگیا

سوال

اگر سفر شروع کرتے  وقت فجر نماز  کا  ٹائم ہو تو پھر نماز کیسے پڑھیں گے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بہتر ہے کہ فجر کی نماز پڑھ کر سفر شروع کرلے، اگر جماعت کا انتظار کر سکتا ہے تو  یہ افضل ہے، اور اگر نہیں کر سکتا تو اپنے  رفقاء کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ کر سفر شروع کرے،  رفقاء نہ ہوں تو انفرادی پڑھ لے، تاہم سفر کی وجہ سے نماز قضا نہ کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا۔

نیز دورانِ سفر اگر فجر کی نماز پڑھنی ہو تو پوری نماز پڑھنی ہوگی، یعنی دو سنت اور دو فرض، فجر کی نماز میں قصر کا حکم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201261
تاریخ06-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں