بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جان کے صدقہ کا پیسہ مسجد میں دینا

سوال

جان کے صدقہ کا پیسہ مسجد میں دینا کیسا ہے؟

جواب

زکات  اور صدقاتِ  واجبہ  (صدقہ فطر، کفارہ، فدیہ، منت) کی رقم مسجد میں دینا اور اسے مسجد  میں استعمال کرنا درست نہیں ہے، البتہ نفلی صدقات مسجد میں دینا اور ان کی رقم استعمال کرنا جائز ہے۔

لہذا جان کے صدقہ سے  مراد  اگر نعمت  ملنے پر شکر کے طور پر  یا آفات اور مصائب سے بچنے کی نیت سے یا اللہ کی رضا کے لیے جان کا صدقہ کیا جائے تو یہ  ”نفلی صدقہ“ ہوگا، اس کو مسجد میں دینا جائز ہے، البتہ اگر جان کے صدقہ سے مراد   ”نذر کی رقم“ ہو ، مثلًا  یہ نذر مانی ہو کہ  اگر مجھے بیماری سے شفا ملی تو میں اللہ  کے  لیے  مسجد میں اتنی رقم صدقہ کروں گا وغیرہ تو اس صورت میں وہ رقم فقراء  کو دینا ضروری ہوگا، مسجد میں دینا جائز نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201224
تاریخ05-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں