بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی دوسری (خطبہ والی) اذان کا جواب دینے اور اذان کے بعد دعا پڑھنے کا حکم

سوال

کیا  خطبہ کی اذان کا جواب دینا اور اس اذان کے بعد دعا پڑھنا ضروری ہے ؟ 

جواب

جمعہ کی دوسری (خطبہ والی) اذان کا جواب دینا اور اذان کے بعد دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ زبان سے جواب دینا یا دعا پڑھنا ہی درست نہیں ہے، ہاں! جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا ہو اور دعا پڑھنی ہو تو دل ہی دل میں اذان کا جواب دے دیا جائے اور دل ہی دل میں اذان کے بعد دعا پڑھ لی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 399)

’’ قال: وينبغي أن لا يجيب بلسانه اتفاقا في الأذان بين يدي الخطيب.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201219
تاریخ05-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں