بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی عورت کو شہوت کی نظر سے دیکھنے کے بعد نکاح کا حکم

سوال

اگر غیر محرم عورت کو شہوت کی نگاہ سے دیکھے تو اس کے نکاح کے بارے میں علمائے کرام کی کیا رائے ہے ؟

جواب

 اگر کوئی شخص کسی غیر محرم عورت کو شہوت کی نظر سے   دیکھ لےتو یہ ایک بڑا گناہ کا کام ہے، جس پر توبہ و استغفار لازم ہے، لیکن اس سے اس کے نکاح کے جواز پر کوئی فرق نہیں پڑتا، یعنی اگر اس عورت سے کوئی شخص نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اسی طرح خود شہوت کی نگاہ سے دیکھنے والا شخص بھی اُس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔

اگر سوال کا مقصد کچھ اور ہے تو مکمل وضاحت کے ساتھ سوال لکھ کر دوبارہ ارسال کردیجیے!

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 33):

"(قوله: والمنظور إلى فرجها) قيد بالفرج؛ لأن ظاهر الذخيرة وغيرها أنهم اتفقوا على أن النظر بشهوة إلى سائر أعضائها لا عبرة به ما عدا الفرج".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144206201191
تاریخ04-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں